دیو سائی پندھرواں حصہ

دیو سائی پندھرواں حصہ

دیو سائی

حصہ 15

عبید جیپ کی طرف گیا تومیں 5سال قبل کی یادوں میں کھو گیا جب میں اکیلا ہی فیری میڈوز اور نانگا پربت کو دیکھنے چلا آیا تھا
 فیری میڈوز سطح سمندر سے 333 سو میٹرز کی اوسط بلندی پر واقع ہے۔ شاہراہِ قراقرم پر اسلام آباد سے 540 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع رائی کوٹ ہے، وہاں پختہ سڑک کا اختتام ہوتا ہے اور پھر وہاں سے کرائے کی جیپ آپ کو قریب ڈیڑھ سے دو گھنٹوں میں تتو نامی گاؤں پہنچا دیتی ہے۔
 موسم گرما میں رائی کوٹ میں بے تحاشا گرمی پڑتی ہے۔ پتھریلے پہاڑ اور دریائے سندھ کے کنارے کی ریت سورج سے قربت کا اظہار اپنی تپش سے کر رہی تھی۔ جیپ میں سوار ہونے کے بعد رائی کوٹ سے انتہائی چڑھائی کا ایک طویل سلسلہ آپ کے ہمراہ ہو جاتا ہے۔ گہرائی میں دریائے رائی کوٹ سے کافی بلندی پر بار بار مڑتے مڑتے تتو تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔
 یہ ٹریک ہزاروں فٹ اونچے پہاڑوں کے درمیان ایک پتھریلا راستہ ہے۔ دائیں طرف آسمان کو چھوتے ہوئے بلند و بالا خطرناک قسم کے خشک پہاڑ، بائیں طرف ہزاروں فٹ گہرائی میں طوفانی نالہ بہتا ہے اورنالے کے دوسرے کنارے پر پھر بلند و بالا پہاڑوں کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ قدیم زمانے کی فور وہیل جیپ پتھروں پر ہچکولے لیتی مسافروں کے دل دہلاتی ہوئی آسمان کی طرف تیزی سے چڑھتی ہے۔
 تھوڑی ہی اونچائی کو پہنچیں تو نیچے کا نظارہ کسی فلم کا منظر لگ رہا ہوتا ہے جسے کسی بڑی تباہی کے بعد کے لمحات کو فلمایا گیا ہو اور سیٹ کو ویسے ہی محفوظ کر لیا گیا ہو۔ ایک بڑا میدان اور چھوٹے بڑے پتھر بے ترتیبی سے، یا ان کی ترتیب ہی ایسی تھی، پڑے ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ منظر کسی دوسرے سیارے کی سیٹلائیٹ سے اتاری گئی تصویر کا ہے۔
 بہت سے لوگ اس ٹریک پر جیپ کے سفر میں اپنے ان نا کردہ گناہوں کی بھی معافی مانگ لیتے ہیں جو ابھی انہوں نے کرنے ہوتے ہیں۔، وہ نظارے اور محسوسات الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ اس ٹریک پر صرف مقامی لوگ ہی جیپ چلا سکتے ہیں جن کی کمال مہارت کی داد دینی پڑے گی۔کسی موڑ پر پہاڑوں کی اوٹ سے نانگا پربت دکھائی دے رہا ہو اور کسی موڑ پر راکا پوشی کی برف پوش چوٹی دکھائی دے تو نیچے ہزاروں فٹ گہری کھائی کے بارے میں سوچنے کا دل کس کا چاہے گا؟
 جیپ کا ٹریک تتو گاؤں تک جاتا ہے وہاں سے آگے کا سفر پیدل طے کرنا ہوتا ہے یا پھر گاؤں سے گھوڑا یا خچر بھی کرائے پر لیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس زیادہ سامان ہے تو آپ تتو گاﺅں سے پورٹر کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں جو آپ کے سفر کو آسان بنانے میں مددگار ہوگا۔تتو سے فیری میڈوز تک پہنچنے کے لیے ایک متواتر چڑھائی کا پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ چڑھائی چونکہ کافی بلندی پر ہے اس لیے کافی لوگ اس پیدل سفر کو مشکل تصور کرتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں سے کہوں گا کہ ایسی معمولی دشواریوں کے بعد آنے والے نظاروں کا تصور کریں، ایسا تصور آپ کو اس پیدل سفر میں چلنے کے دوران حوصلے فراہم کرے گا۔ یہ پیدل سفر دو سے چار گھنٹوں میں آپ کو منزل پر پہنچا دیتا ہے۔اس ٹریک پر گھنا جنگل آپ کا ہمسفر رہتا ہے۔ میں جن نظاروں کے تصور کی بات اوپر کر رہا تھا، وہ نظارے نانگا پربت کی صورت میں آپ کو دکھائی دینا شروع ہوا اور آپ کو پیدل سفر کیش ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
 رائی کوٹ دریا کا ماخذ رائی کوٹ گلیشیئر دکھائی دیتا ہے، اس گلیشیئر سے بہتا دریا ایک دلکش نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ غار نما گلیشیئر کا نظارہ ایسا ہے کہ وہ لوگ جو گلیشیئر دیکھنے سے قاصر رہے انہیں ایک وقت تک خود کو یقین دلانے کافی مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ایک گلیشئر کا اختتامی نکتہ ہے۔
 تقریباً دو کلومیٹر کے بعد ایک ڈھابہ نظر آتا ہے جس کی چائے آپ کو دنیا کی سب سے ذائقے دار محسوس ہوتی ہے۔ جیسے جیسے آپ اوپر جائیں گے موسم بھی اپنا رنگ دکھا تا جائیگا چمکتی دھوپ کے بجائے گہرے بادلوں آس پاس کے پہاڑوں کو گھیرلیتے ہیں اور ہلکی ہلکی بارش موسم کو شدید رومانوی بنا دیتی ہے۔ بادلوں کی وجہ سے روشنی بہت جلد غائب ہو جاتی ہے۔
 چلاس اور فیری میڈوز کے درمیان چالیس کا آنکڑہ چلتا ہے اگر چلاس میں ٹمپریچر 400ہو تو فیری میڈوز کا درجہ حرارت صفر ہوگا۔
 81255 میٹر بلند نانگا پربت پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی کا مقام رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ دنیا کی مشکل ترین چوٹی ہے اسی وجہ سے چالیس کوہ نورد ہلاک ہو چکے ہیں، لہٰذا یہ 'کلر ماؤنٹین' یا 'قاتل پہاڑ' کے نام سے شہرت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں مقامی طور پر اسے دیامر پکارا جاتا ہے اور ارد گرد کے علاقے کو بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ نانگا پربت کے نام کی وجہ تلاش کرنے پر معلوم ہوا کہ انتہائی بلند ہونے پر اس چوٹی کی سطح پر برف کا نہ ٹھہرنا ہی اسے یہ نام بخشتا ہے۔
 بیال کیمپ کے ٹریک پر بارش کے بعد شدید پھسلن ہوتی ہے، ایک دو جگہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ابھی نیچے رائی کوٹ گلیشیئر کے حصّہ بن سکتے ہیں،یہاں سے رسک لیکر اور ٹریک چھوڑ کر جنگل کے رستے بیال کیمپ کی طرف جایا جا سکتا ہے
 جنگل میں کئی قسم کے خوبصورت درخت، سبزہ زار، پھول، جھرنے اور چشموں کے پانی پر مشتمل ندی اور نہایت سریلی آواز میں گیت گاتے خوبصورت پرندے روح تک کو نئی تازگی نئی زندگی بخشتے ہیں۔
 بیال کیمپ تک کا راستہ حسین ترین نظاروں کی گزرگاہ ہے۔ دائیں طرف نانگا پربت کے دامن سے نالے کی صورت اترتا ہوا پانی اور چیڑ کے جنگلات سے بہتی ہوئی ندی اور چشمے، بائیں طرف نالے میں گر کر عجیب سماں پیدا کرتے ہیں۔ یہ راستہ پرخطر ہونے کے باوجود دنیا کی خوبصورت ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
 نانگا پربت دنیا کا وہ واحد آٹھ ہزار میٹر سے بلند پہاڑ ہے جس کے دامن میں پائن کا اتنا گھنا جنگل ہے۔ آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی کل تعداد 14 ہے جن میں سے پانچ پاکستان میں ہیں۔ دنیا میں تمام ایسی چوٹیوں کے ارد گرد گلیشیئرز اور برفانی چوٹیاں ہوتی ہیں، جبکہ نانگا پربت کے ایک طرف راما میڈوز اور دیوسائی کا دلکش میدان ہے تو دوسری جانب فیری میڈوز میں اس قدر گھنا جنگل ہے۔ مگر افسوس کہ جنگل کو تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ہر پانچ میں سے ایک درخت کٹا ہوا تھا۔ اتنی تعداد میں کٹے ہوئے درختوں کو دیکھنے کے بعد مجھے یقین کی حد تک گمان ہوا کہ کچھ سالوں کے بعد یہ جنگل یہاں موجود نہیں ہوگا.
 بیال کیمپ ایک خوبصورت وسیع سر سبز میدان نظر آیا۔ میدان کے بالکل درمیاں میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی ہے۔ ندی کے دائیں طرف بلند و بالا سرسبز پہاڑ جبکہ بائیں طرف کئی قسم کے درخت بلندی تک نظر آرہے تھے۔ بہتے پانی کا شور اس خوبصورت وادی کے حسن کو مزید سحر زدہ بنا رہا تھا۔ درجنوں کے حساب سے ہٹس بنے ہوے ہیں جہاں سیاحوں کو رہائش کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں
 میں انہیں سوچوں میں گم تھا کہ عبید نے آواز دی ابو جیپ والا تیار ہو گیا ہے 80000روپے لیجانے اور واپس لانے کا مانگ رہا ہے۔ میں چونکا کہ یہ کیا میں تو فیری میڈوز میں تھا واپس رائے کوٹ کیسے آ پہنچا؟

جاری ہے
No Comments

Post a Comment