دیوسائی چوھدواں حصہ

a

دیوسائی چوھدواں حصہ

دیو سائی
 14 حصہ
 ہم سڑک پر بیٹھ گئے۔ ہلکی ہلکی دھوپ نکل آئی تھی۔اور پہاڑ وں کے گرد اکا دکا بادل کی ٹکڑیا منڈلا رہی تھیں۔ جبکہ نانگا پربت مستقل پردہ کیئے ہوئے تھا۔آپ سوچ رہے ہونگے کہ نانگا پربت میں ایسا کیا ہے کہ میں اس کو دیکھنے کیلئے اتنے ترلے کر رہا ہوں تو سنیں ہر انسان کامیابیاں سمیٹنا چاہتا ہے اور ناکامی سے فرار چاہتا ہے
 ہم لوگوں میں سے اکثر اپنی ذات سے باہر نہیں آ پاتے، بس اپنے اندر کے چپے چپے سے ریت کے ڈھیروں کو چھان چھان کر دیکھتے ہیں کہ کوئی خزانہ مل جائے، اور وہ خزانہ خوشی کی شکل میں ملے یا دکھ کی شکل میں ! جب وہ مل جاتا ہے تو لے کر آرام سے کنارے پر بیٹھ جاتے ہیں، خوشی مل جائے تو قہقہوں کی گونج سے اندر بجھی بتیاں جل جاتی ہیں، اور دکھ مل جائیں تو آنسوؤں کا طوفان برپا ہو جاتا ہے، ہم چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ دراصل ایک انسانی دماغ اپنے اندر ایک پوری کائنات چھپا کر بیٹھا ہے، جیسے باہر کی کائنات میں طرح طرح کے راز چھپے ہیں جو کبھی ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں تو کبھی ہم پر عیاں ہو جاتے ہیں۔
 موسموں کی بابت دیکھا تو معلوم ہوا باہر کے موسموں کی طرح اندر کے موسموں نے بھی اپنی ایک دنیا آباد کر رکھی ہے۔ جذبوں کی ہوا، احساسات کی بارش، بغاوتوں کے سمندر، دکھوں کی آندھیاں، صدموں کے طوفان، قہقوں کے ان گنت پھول، آنسوؤں کے بے شمار کانٹے حضرت انسان کے اندر یوں موجود ہیں کہ کسی ایک کا بھی نکالے جانا ممکن نہیں یہ سب موسم ہمیں باہر بھی یوں ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کو دیکھنا سطحی ہوتا ہے۔ ہم محبت میں ناکامی سے ڈرتے ہیں حالانکہ ڈرنا کامیابی سے چاہیئے۔ کیونکہ کامیابی سے محبت کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور آپ پھر سے انہی تنہاں راستوں پر بھٹک رہے ہوتے ہیں۔
 جب آپ کسی کو سڑک کے دوسرے کنارے کھڑے ہو کر دیکھتے ہیں، آپ کا تاثر اس شخص کے متعلق مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی، کتابِ حیات کا مطالعہ تب تک ممکن ہی نہیں کہ جب تک آپ اگلا صفحہ نا پلٹ لیں، اور اگلے صفحے پر کیا کیا راز افشاں ہونگے اور ان کو پڑھ کر ہمیں کیا محسوس ہو گا اس کی پیشن گوئی کون کر سکتا ہے کسی ایک انسان سوانح حیات پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ہر کتاب کے ہر صفحے کی ہر سطر میں ایک نیا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جب آپ کائنات کو سمجھ لیتے ہیں تو آپ اللہ کی پیدا کردہ ہر چیز سے محبت کرنے لگتے ہیں اور بقول شاعر
 محبت کیا ہے ،تاثیر محبت کس کو کہتے ہیں
 تیرا مجبور کر دینا !میرا مجبور ہو جانا!!
 خیرہم نے نانگا پربت کی طرف دیکھا اور اس کی توجہ نہ پا کر ہم نے دھرنا دینے کا پروگرام بنایا اور ننگے پاﺅں سڑک پر بیٹھ گئے۔ اکا دکا گاڑی آتی گزر جاتی وہ بھی دیکھ رہے تھے کہ انہوں نے سڑک پر کیوں قبضہ کر رکھا ہے۔ اس سے پہلے کی کوئی انتظامیہ کو اطلاع دے کر زبردستی ہمارا دھرنا ختم کرواتا، نانگا پربت کو رحم آ گیا اور اس نے اپنا چہرہ سامنے کر دیا ہم سب نے خوشی سے نعرہ بلند کیا اور اس کے ساتھ سیلفی بنانے لگ گئے۔ کافی ساری تصویں بنانے کے بعد ہمیں ڈرائیور کا خیال آیا کہ وہ نظر نہیں آ رہا، گاڑی کو چیک کیا ڈرائیور حسب معمول غائب تھا۔آوازیں دیں ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہ ملا۔
 پھر میں نے عبید کو کہا کہ جب اس کو سگریٹ کی طلب ہو تم گاڑی ڈرائیور کیا کرو لیکن اس کو غائب نہ ہونے دو۔کوئی پندرہ منٹ بعد ڈرائیور وہ دور اوپر نالے کی جانب سے آتا دکھائی دیا تو سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اب وقت کوئی صبح کے دس بج چکے تھے اور بادل غائب ہو گئے۔ گرمی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ کہاں تین دن کی شدید سردی اور کہاں اب شدید گرمی۔ سارا ماحول ہ تبدیل ہو گیا۔
 ہم سفر کرتے کرتے تتہ پانی پہنچ آئے۔ وہاں گرم پانی کے چشموں کے پاس رک گئے۔ اور سب گاڑی سے اتر آئے۔ پانی کو ہاتھ لگایا تواففففف ہاتھ جل گیا۔ گندھک کے چشموں سے نکلتے ہوئے پانی کوہاتھ لگانا مشکل تھا۔ سب ہاتھ منہ دھونا چاہتے تھے مگر ابلتے ہوئے پانی سے ہاتھ منہ دھونا کوئی آسان کام تو تھا نہیں۔
 اتنے میں ایک اور گاڑی وہاں پر آ کر رکی اور اس سے کچھ افراد ہماری جانب دیکھ کر اترے۔ انہوں نے ہاتھوں میں کولر اور بوتلیں اٹھا رکھی تھیں۔ پینے کیلئے پانی بھرنا چاہتے تھے۔ہمیں دیکھ کر اپنی گاڑی کے پاس رک گئے۔ میں نے اپنے افراد کو کہا کہ آپ گاڑی کے اس طرف چلے جائیں تا کہ یہ پای بھر لیں۔
 ان میں سے ایک بندہ میری طرف آیا اور پوچھنے لگا کیا یہ پانی صاف ہے اور پینے کے قابل ہے۔ مجھے مذاق سوجھا میں نے کہا کہ یہ آب شفا ہے۔ دو بیماریاں اس پانی کے استعمال سے ختم ہو جاتی ہیں، ایک شوگر اور دوسرا موٹاپا
 اس نے سچ سمجھا اور پشتو میں باقی افراد کو یہ بات بتا کر چشمے کے قریب بلا لیا۔ اب ایک چشمے میں پانی دور سے آتا تھا وہ کم گرم تھا جب کہ باقی سب چشمے بہت زیادہ گرم تھے۔ وہ سب افراد میرے قریب آ کر کھڑے ہو گئے اور مجھ سے اس پانی کی ترقیب استعمال پوچھنے لگے۔ ان میں سے ابھی تک کسی فرد نے پانی کو ٹچ نہیں کیا تھا۔ میں نے سنجیدہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے پہلے تو گندھک کی فضیلت بیان کی پھر اس کے فوائد جو کہ اسی وقت میرے زہن میں آ ئے تھے وہ بیان کئے اور پھر ان چشموں کے پانی کو دنیا کا سب سے نایاب پانی بنا پر ان کو پیش کیا۔ وہ میرے باتیں غور سے سن رہے تھے اور ان کو میری شرارت کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ میری باتوں کو میرے گھر کے افراد بھی سنجیدگی دیکھتے ہوئے سچ سمجھنے لگ گئے تھے۔
 اب شرارت کا اگلا مرحلہ تھا۔ پانی کے فضائل کے بعد اس کا استعمال کیسے کرنا ہے یہ بتا نا تھا۔
 وہ سب کوئی 6 افراد تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ شوگر والے کون کون سے ہیں تو 2بندے سامنے آ گئے۔
 میں نے دوسرا سوال کیا کہ موٹاپے سے کون کون نجات چاہتا ہے۔ تو باقی کے چار افراد سمارٹ بننے کیلئے سامنے آ گئے۔ اب شرارت کا آخری مرحلہ تھا اور میرے گھر والے اب جا کہ سمجھ گئے کہ شرارت کی جا رہی ہے سب گا ڑی میں بیٹھ کر ہنس رہے تھے۔ میں نے جو چشمہ سب سے گرم تھا اس پر ان موٹاپے سے نجات پانے والوں کو مسلسل 5منٹ نہانے کا کہا اور شوگر والوں کو کوکا کولا کی ڈیڑھ لٹر کی بوتل وہ پانی پینے کی صلاح دی۔ موٹاپے والے ایکدم خوشی خوشی اس پانی کے نیچے جا گھسے جو بھی گھستا وہ چیخیں مارتا ہوا اپنی گاڑی کے پاس جا کر رکتا۔ اور مڑ کر ہماری جانب دیکھتا جہاں ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ وہ سب سمجھ گئے کہ ان سے مذاق کیا گیا ہے۔ اب وہ بھی ہنسنے لگے۔ پانی پینے والوں کو البتہ اندازہ ہو گیا لہٰذا انہوں نے پانی بھرا تو ضرور لیکن ایک ایک گھونٹ سے زیادہ پیا نہیں۔ پھر میں ان کی جانب گیا اور مذاق کرنے پر معذرت کی
 وہ بھی ہنسنے لگے۔
 پھر وہ گلگت کی جانب چل پڑے مگر ہمارا دل ابھی اس پانی سے بھرا نہیں تھا ہم نے شیمپو لگا کر سر دھونے کی ٹھان لی۔ اب جو بھی شیمپو لگاتا اسے بعد میں تولیہ سے پونجھنا پڑتا سب اس حالت پر ہنس رہے تھے۔ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ایک بج چکے تھے۔
 اب اگر اور دیر ہوتی تو چلاس سے ہمیں بابو سر ٹاپ کی طرف سفر مشکل ہو جاتا کیونکہ پولیس 4بجے کے بعد بابو سر ٹاپ کی جانب سفر نہیں کرنے دیتی۔ ہم نے اب کسی بھی جگہ رکنے کا پروگرام کینسل کیا اور واپسی کیلئے قدم بڑھا یئے۔ عبید کا خیال تھا کہ جاتے ہوئے فیری میڈوز کا چکر بھی لگا لیں اور رات کا قیام وہیں پر کرتے ہیں۔ میں نے کہا آپی سے پوچھ لو ان کی رائے کے بغیر اب کہیں رکنے کے حق میں نہیں تھا۔
 ہم رائے کوٹ پہنچے تو عبید نے گاڑی روکی اور جیب والے سے فیری میڈوز کیلئے بھاﺅ تاﺅ کرنے لگ گیا
 جاری ہے
 (تصاویر نیٹ سے لی گئی ہیں۔)
No Comments

Post a Comment